زکوٰۃمکمل تحقیق کے بعد ہی دی جائے
عبدالغفار صدیقی
زکوٰۃ اسلام کا اہم رکن ہے۔اللہ تعالیٰ نے جس طرح مسلمانوں پر نماز فرض کی ہے اسی طرح اس نے زکوٰۃفرض کی ہے۔جس طرح نماز کا منکر دائرہ اسلام سے خارج ہے اسی طرح زکوٰۃکا منکر بھی مسلمان نہیں۔بعض مفسرین نے نماز سے اللہ کے حقوق اور زکوٰۃسے بندوں کے حقوق مراد لیے ہیں۔بعض کے نزدیک نماز بدنی عبادت ہے اور زکوٰۃمالی عبادت ہے۔زکوٰۃ چونکہ مال پر ہے اس لیے کہا جاسکتا ہے کہ زکوٰۃکا تعلق اسلامی معاشیات سے ہے۔اللہ نے زکوٰۃاس لیے فرض کی تھی کہ مسلمانوں میں غربت نہ رہے۔مگر برصغیر کے مسلمانوں کی بدقسمتی ہے کہ سینکڑوں برس سے زکوٰۃنکالنے اور دینے کے باوجود ہر سال غربت میں اضافہ ہو رہا ہے۔
زکوٰۃ کے تعلق سے احادیث میں بہت سی ہدایات دی گئی ہیں ان میں سے ایک حدیث کے الفاظ یہ ہیں۔’’اللہ نے ان کے اموال میں زکاہ فرض کی ہے جو ان کے مالداروں سے لی جائے گی اور ان کے غریبوں پر خرچ کی جائے گی۔‘‘(متفق علیہ)
درج بالا ہدایت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبل ؓ کو اس وقت فرمائی تھی جب انھیں آپ یمن کا گورنر بناکر رخصت کررہے تھے۔
جہاں تک مصارف زکوٰۃاور مستحقین کا تعلق ہے وہ قرآن مجید میں صاف صاف بیان کردیے گئے ہیں۔سورہ توبہ کی آیت 60 میں ارشاد باری ہے۔’’یہ صدقات تو دراصل فقیروں اور مسکینوں کے لیے ہیں اور اُن لوگوں کے لیے جو صدقات کے کام پر مامور ہوں، اور اُن کے لیے جن کی تالیف قلب مطلوب ہو نیز یہ گردنوں کے چھڑانے اور قرض داروں کی مدد کرنے میں اور راہ خدا میں اور مسافر نوازی میں استعمال کرنے کے لیے ہیں ایک فریضہ ہے اللہ کی طرف سے اور اللہ سب کچھ جاننے والا اور دانا و بینا ہے۔‘‘
اس آیت کی روشنی میں زکوٰۃ کے آٹھ مستحقین ہیں(1) فقیر(2)مسکین (3)محصلین زکوٰۃ(4)جن کی تالیف قلب مقصود ہو (5) قیدی (6) مقروض (7) اللہ کی راہ میں (8) اور مسافر
مسلمانوں کو نماز با جماعت کی طرح زکوٰۃباجماعت ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔اس کی ایک دلیل یہ ہے کہ زکوٰۃادا کرنے کا حکم جمع کے صیغے میں دیا گیا ہے۔دوسری دلیل یہ ہے کہ مصارف زکوٰۃمیں ایک مد’’ والعاملین علیہا ‘‘( زکوٰۃ وصول کرنے پر مامور لوگ )ہے۔جس کا مطلب ہے جو لوگ زکوٰۃوصول کرنے پر مامور ہوں گے ان کے مشاہرے زکوٰۃسے ادا کیے جائیں گے۔ظاہر ہے محصلین تبھی متعین ہوں گے جب زکوٰۃکا اجتماعی نظم ہوگا۔اگر انفرادی طور پر زکوٰۃادا کیے جانے کا حکم ہوتا تو محصلین کی ضرورت ہی کیا تھی۔تیسری دلیل یہ ہے کہ خلافت راشدہ میں زکوٰۃکے عامل مقرر تھے جو لوگوں سے زکوٰۃ،عشر وغیرہ اکٹھا کرکے سرکاری خزانہ میں جمع کرتے اور وہاں سے مستحقین کی مدد کی جاتی تھی۔
حیرت ہے کہ دارالعلوم دیوبند سے جب زکوٰۃکے اجتماعی نظم قائم کرنے کی اجازت چاہی تو انھوں نے منع کردیا۔فتویٰ: 811=706/ل ملاحظہ فرمائیں جو دارالعلوم کی ویب سائٹ پر موجود ہے۔
’’ زکوٰۃ کی رقم جمع کرنا اور اس کو مستحق زکوٰۃتک پہنچانا بہت مشکل اور دشوار امر ہے، اس لیے میرے خیال میں آپ اس طرح کا اجتماعی نظام قائم نہ کریں۔ زکوٰۃدہندگان کی اپنی خود ذمہ داری ہے کہ وہ زکوٰۃکی رقم مستحقین زکوٰۃتک پہنچائیں، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں جب اموال کثیر ہوگئے اور ارباب اموال کے تلاش میں دشواری پیش آنے کا انھیں علم ہوا تو باجماع صحابہ اس بات میں مصلحت سمجھی کہ ادائیگی زکوٰۃکو ارباب اموال کے حوالہ کردیا جائے اور وہ خود مصارف زکوٰۃتلاش کرکے ان کو زکوٰۃادا کریں: لکن لما کثرت الأموال فی زمن عثمان رضی اللہ عنہ وعلم أن فی تتبعھا ضررًا بأصحابہا رأی المصلحۃ فی تفویض الأداء إلیہم بإجماع الصحابۃ (شامی: ۳/۶۷۱، ط زکریا دیوبند)واللہ تعالیٰ اعلم،دارالافتاء،دارالعلوم دیوبند‘‘
جب کہ دارالعلوم ندوہ العلماء کی ویب سائٹ پر اجتماعی نظم زکوٰۃکے ضمن میں درج ذیل دلائل دیے گیے ہیں۔
’’اسلام اجتماعیت کو پسند کرتا ہے، یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم میں ہے:خذ من اموالھم صدقۃ تطہرھم وتزکیھم بہا(توبہ 103)’’آپ ان کے مال میں سے صدقہ قبول کیجئے،تاکہ آپ اس کے ذریعہ انہیں پاک وصاف کردیں اور انہیں دعادیجئے۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺسے فرمایا کہ آپ ان سے زکوٰۃ وصول کریں، مسلمانوں کوانفراداً زکوٰۃ دینے کا حکم نہیں دیا گیا۔اسی طرح’اقیموا الصلوۃ وآتوا الزکوۃ‘ ( سورہ بقرۃ: 43)کے الفاظ سے بھی اجتماعیت کا اشارہ ملتا ہے۔حضورﷺ کا ارشاد ہے:امرت ان آخذ الصدقۃ من اغنیائکم واردھا فی فقرائکم۔(متفق علیہ)’’ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمہارے مالداروں سے زکوٰۃوصول کروں اور تمہارے غریبوں پر خرچ کردوں ‘‘رسول اللہ ﷺ کایہ ارشاد بھی اجتماعیت کی تصدیق کرتا ہے۔خود حضورﷺ،خلفائے راشدین کا بھی اسی پر عمل تھا، اسلامی کارندے زکوٰۃ جمع کرتے تھے اور مرکز کی طرف سے اس کو مستحقین میں تقسیم کیا جاتا تھا۔جہاں جہاں زکوٰۃ جمع کرنے کا نظم نہیں ہے اور بیت المال نہیں قائم ہیں،وہاں کے مسلمان انفرادی طور پر اپنی زکوٰۃ نکال کر شرعی مصارف میں خرچ کرسکتے ہیں۔‘‘
ان دونوں فتاویٰ میں نمایاں فرق ہے ۔دارالعلوم دیوبند کی تحریر میں اجتماعی نظم زکوٰۃکے مقابلہ انفرادی زکوٰۃدینے کو ترجیح دی گئی ہے اور دلیل میں حضرت عثمان ؓ کا عمل نقل کیا گیا ہے۔ندوہ العلماء لکھنو کی تحریر میں اجتماعی نظم زکوٰۃکے دلائل قرآن و احادیث اور آثار صحابہ ؓ سے دیے گئے ہیں ۔قارئین خود فیصلہ کرسکتے ہیں کہ کون سا موقف زیادہ قرین شریعت ہے۔
زکوٰۃ اس مال پر فرض ہوتی ہے جو ایک سال تک آپ کے پاس رہا ہو ۔کوئی مال اگر ماہ محرم میں آیا ہے تو اس پر اگلے سال محرم کے مہینے میں ہی زکوٰۃفرض ہوگی ۔مگر ہم دیکھتے ہیں کہ ہر شخص رمضان میں زکوٰۃنکال رہا ہے ۔یہ دراصل اہالیان مدارس نے اپنی سہولت کے لیے کیا ہے ۔
میرا احساس ہے کہ برصغیر میں زکوٰۃکے معاملے میں بیشتر علماء خاص طور پر دیوبندی اور بریلوی نقطہ نظر کے حامل علماء اسلام کی صحیح تعلیمات کو چھپا رہے ہیں اور اجتماعی نظم زکوٰۃکے قیام سے ان کوخاص قسم کے نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔اس خطہ میں اکثرعلماء کی جملہ معاشیات زکوٰۃپر ہی منحصر ہیں اسی لیے اگر سماج میں اجتماعی نظام زکوٰۃقائم کرنے کی کوئی ادنیٰ کوشش بھی کی جاتی ہے تو ان علماء کی جانب سے اس کی مخالفت شروع ہوجاتی ہے۔ان علماء نے اپنی مطلب برآری کے لیے اپنی جانب سے بہت سی شرائط دین میں داخل کردی ہیں ۔
مصارف زکوٰۃکے تعلق سے بیشترحنفی علماء اپنی تقریر وںمیں صرف مدرسہ کا ذکر کرتے ہیں،قرآن میں بیان کردہ مدات زکوٰۃاور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات کا تذکرہ نہیں کرتے۔ ان کے بیانات سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ زکوٰۃصرف مدرسہ میں ہی خرچ کی جاسکتی ہے اور وہ بھی ان مدرسوں میں جہاں بیرونی بچے زیر تعلیم ہوں۔
جب ایک مسلمان اپنے بچے کو عصری تعلیم کے لیے سرکاری یا پرائیویٹ اسکولوں میں بھیجتا ہے تو اس کی فیس کے ساتھ ساتھ دیگر تعلیمی ضروریات بھی فراہم کرتا ہے ،پھر وہ اپنے بچے کو حافظ اورعالم بنانے پر پیسہ خرچ کیوں نہیں کرتا؟کیوں مدارس نے اپنے یہاں فیس کا نظام قائم نہیں کیا ،اس کے پیچھے یہ وجہ تو نہیں کہ فیس لیں گے تو چندہ نہیں ملے گا؟فیس کا نظام نہ ہونے کی وجہ سے انتہائی غریب بچے مدارس کا رخ کرتے ہیں ،فیس نہ دینے کی وجہ سے والدین بھی کوئی توجہ نہیں دیتے اس لیے کہ ان کی جیب سے کچھ خرچ نہیں ہوتا ؟فیس نہ ہونے کی وجہ سے خوش حال گھرانوں کے بچے اپنی عزت نفس کی خاطر مدارس کا رخ نہیں کرتے ۔اگر مدارس میں فیس کا نظم قائم کردیا جائے تو دینی تعلیم کی اہمیت اور قدر میں اضافہ ہوجائے گا ۔کسی بھی قوم میں سو فیصد مستحق زکوٰۃنہیں ہوتے ،جب والدین اپنے بچے کی شادی اور مکان پر لاکھوں روپے خرچ کرسکتے ہیں تو تعلیم پر چند ہزارکیوں نہیںخرچ کرسکتے ؟ہر مدرسہ میں فیس کا نظام قائم کیا جائے اور نادار طلبہ کے لیے میرٹ کی بنیاد پر تعلیمی وظائف دیے جائیں ۔اس سے دینی تعلیم کی قدرو منزلت میں اضافہ ہوگا ۔مدرسہ کے موجودہ نظام میں مستفیدین کی اکثریت انتہائی پسماندہ طبقہ سے تعلق رکھتی ہے ،آگے چل کر یہی افراد ہماری مذہبی قیادت فرماتے ہیں ۔اب آپ خود ہی اندازہ لگالیجیے کہ اس طبقہ کی قیادت میں ملت کا کارواں کہاں پہنچے گا؟
برصغیر ہند وپاک میں بڑے پیمانے پر زکوٰۃگھوٹالہ ہوتا ہے ، اگر اس کی جانچ کی جائے تو اچھے اچھے جبہ و دستار والے بے نقاب ہوجائیں۔ زکوٰۃوصول کرنے والوں میں سے ایک بڑی تعداد ان لوگوں کی ہوتی ہے جن کا مدرسہ صرف رسید بک اور کاغذپر ہی ہوتا ہے،کچھ لوگ وہ ہوتے ہیں جنھوں نے ایک کمرے پر بھی جامعہ (یونیورسٹی) کا بورڈ لگا رکھا ہے۔سفراء کی اکثریت کو پچاس فیصد رقم کمیشن کے نام پر دے دی جاتی ہے۔کچھ مدارس کے ذمہ داران رسید بک کا یکمشت سودا تک کرلیتے ہیں۔ زکوٰۃ کے اسی کرپشن کی وجہ سے مدارس کی تعداد میں ہر سال اضافہ ہورہا ہے ۔ہر وہ عالم جو چندہ کرنے کے فن سے واقف ہے اپنا مدرسہ قائم کرلیتا ہے ۔کچھ علماء اپنے ظاہری تقویٰ سے سیدھے سادے مسلمانوں کا بے وقوف بنا کر مدرسہ قائم کرلیتے ہیں ۔بیرونی طلبہ کے نام پر اپنی فیملی کے بچوں کو یتیم کہہ کر داخل کردیتے ہیں ۔بعض قراء و حفاظ بچوں کو اپنا یرغمال بناکر رکھتے ہیں وہ جہاں جاتے ہیں مدرسہ کے طلبہ انھیں کے ساتھ ہجرت کرجاتے ہیں ۔جس کے ساتھ جتنے زیادہ بچے ہوں گے اس کی تنخواہ بھی اچھی ہوگی ۔گائوں کے ایک بچے کو مفت پڑھانے کے نام پر پورے گائوں سے چندہ کرتے ہیں ۔مثال کے طور پر آپ کا بچہ کسی مدرسہ میں مفت تعلیم حاصل کررہا ہے تو رمضان میں اس مدرسہ کا سفیر آپ کے پاس آئے گا اور آپ کے ساتھ گائوں کے متمول افراد سے ملاقات کرکے زکوٰۃوصول کرے گا۔ زکوٰۃ گھوٹالوں میں ایک گھوٹالہ تملیک کے نام پر کیا جاتا ہے ۔اس کے تحت زکوٰۃکی ساری رقم ایک مستحق زکوٰۃ طالب علم کو دے دی جاتی ہے اور پھر پہلے سے طے شدہ پروگرام کے تحت وہ بچہ رقم مدرسہ کو واپس کردیتا ہے۔علماء کے نزدیک اس طرح وہ زکوٰۃ امداد بن جاتی ہے ،اور پھر ہر کام میں خرچ کی جاسکتی ہے ۔
میں آپ سے صرف اتنی گزارش کرتا ہوں کہ آپ اپنی زکوٰۃ کو ضائع ہونے سے بچائیے ۔اسے جہاں بھی دیجیے مکمل تحقیق کے بعد دیجیے ۔ہر ہاتھ پھیلانے والے کو مت دیجیے ۔آج کل غیر مسلم حضرات بھی بھیس بدل کر نکل رہے ہیں ۔

Comments
Post a Comment